اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، غزہ کی وزارتِ امورِ اسیران و رہا ہونے والے قیدیوں نے فلسطینی قیدی ایہاب محمد عبدالکادر دیاب کی شہادت کا مکمل ذمہ دار صہیونی حکومت اور اس کی جیل انتظامیہ کو قرار دیا ہے۔
وزارت نے کہا کہ ایہاب دیاب کی شہادت فلسطینی اسیران اور زیرِ حراست افراد کے خلاف صہیونی حکومت کی جانب سے جاری جرائم کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔
وزارتِ امورِ اسیران نے کہا کہ ایہاب دیاب کی شہادت کا اعلان اس کے انجام کے بارے میں طویل عرصے تک معلومات چھپائے رکھنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس سنگین صورتحال کو بے نقاب کرتا ہے جس کا سامنا غزہ کے فلسطینی قیدی صہیونی جیلوں اور حراستی مراکز میں کر رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق صہیونی حکام ان قیدیوں کے بارے میں معلومات چھپانے اور انہیں جبری طور پر لاپتا رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ صہیونی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں، بالخصوص غزہ کے قیدیوں کی مسلسل شہادتوں کو موجودہ شواہد کی روشنی میں انفرادی واقعات یا طبعی اموات قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مختلف گواہیوں اور معلومات کے مطابق قیدیوں کو تشدد، بدسلوکی، طبی سہولیات سے محرومی اور انتہائی سخت حالات کا سامنا ہے۔
وزارت نے ایہاب دیاب کی شہادت کے حالات کی آزاد اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی حراست کی جگہ اور حالات مکمل طور پر سامنے لائے جائیں، اس کی شہادت کے ذمہ دار افراد کی شناخت کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس کا جسدِ خاکی اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔
وزارت نے غزہ سے تعلق رکھنے والے ان تمام زیرِ حراست افراد کے انجام کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جن کے بارے میں صہیونی حکام اب بھی ان کی حالت اور مقامِ حراست سے متعلق خاموش ہیں۔
وزارتِ امورِ اسیران نے عالمی اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ محض مذمتی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ فلسطینی قیدیوں کے تحفظ، صہیونی حکومت کو ان کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جواب دہ بنانے اور مکمل استثنیٰ کی پالیسی ختم کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کریں۔
وزارت نے زور دے کر کہا کہ شہید قیدی ایہاب دیاب کا معاملہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ فلسطینی اسیران کی تحریک کے خلاف جاری جرائم کا حصہ ہے، جو ایک ایسے منظم جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نظام کے تحت جاری ہیں جس میں قیدیوں، ان کے حقوق اور ان کی جانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ